تبليغاتX
گوناگون از اخباراهل سنت ایران ومنطقه
وضعیت مبهم طلبه"حسن شه بخش" 
پس از سپری شدن بیش از ۸ روز از دستگیری حسن شه بخش طلبه خرد سال مدرسه "امام ابو حنیفه "زابل هنوز هیچ ارگانی  از محل نگهداری او خانواده بسیار نگرانش را خبر نمیدهد!

اما طبق اخبار موثق این طفل در زابل شدیدا شکنجه شده وبا انواع شکنجه وحیله از وی اقرار جعلی گرفته اند.(مثل دست داشتن در انفجار اتوبوس سپاه در سال گذشته!وبه روایتی دست داشتن در درگیری تاسوکی!!!!واگر تحقیقات به همین روال ادامه داشته باشد

منتظر باشید تا چند روز دیگر احتمالا  اعتراف خواهد کرد که :عبدالمالک است!!!!گفتنی است عمر این طلبه ۱۵ سال است!

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در سه شنبه سی ام بهمن 1386 و ساعت 19:32
همین است مذهب تشیع؟؟؟؟ 
يرجى استخدام لغة الحوار الهادىء




كنت اتبحر في عالم المنتديات بحثاً عن اخبار المقاطعه, مقاطعة الدوله الرافضيه , ووجدت هذا الموضوع

القيم الرائع والذي كتبه ناصر المقاطعه وفاضح الرافضه الهاشمي2 جزاه الله الجنه , فهو خير من كتب ودعا الى مقاطعة الدوله الرافضيه الصفويه العاقه المارقه.. اليكم الصور ,, والعقل السليم في الجسم السليم..

اخوكم عمر الانصاري : حملة المقاطعه




اللهم صلي وسلم على محمد وعلى ال محمد وعلى صحب محمد اجمعين والعن اعدائهم الى يوم الدين
بارك الله في أخواني اسود السنة
يقول الله تعالى ::
بسم الله الرحمن الرحيم
( وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لاَّ يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لاَّ يَسْمَعُونَ بِهَا أُوْلَـئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ )
صدق الله العظيم
[الأعراف : 179]
شاهد كيف يضل الشيطان الرافضة !
فمسخ فطرهم وعقائدهم حتى جعلهم أضل من الحيوانات !
هذي الصور تدل علي ان الحيوانات اشرف واعقل وارحم منكم يارفض !







ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در شنبه بیست و هفتم بهمن 1386 و ساعت 15:26
سندھ: دس "مجاهد‘ گرفتار  
 
 

 
 
کراچی میں گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشتگرد
پولیس کے مطابق کراچی کے مخلتف علاقوں سےگرفتار کیے جانے والے افراد

سندھ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک نئی شدت پسند تنظیم تحریک اسلامی لشکر محمدی کو بے نقاب کرنے کے بعد اس کے دس کارکنوں کوگرفتار کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور بم بنانے کے آلات بھی برآمد کیے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان شدت پسندوں نے الیکشن سے پہلے کئی اہم سیاسی رہنماؤں اور مختلف غیرمسلم تنظیموں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس مقصد کے لیے کراچی میں ایک لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی جہاں بم بنانے کی تربیت دی جاتی تھی۔

آئی جی پولیس سندھ اظہر فاروقی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان شدت پسندوں کی گرفتاری اور ان کی تنظیم کے متعلق تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو گزشتہ ماہ اس تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تھی جس پر اس تنظیم کی خفیہ نگرانی شروع کی گئی اور پندرہ فروری کو کراچی کے علاقوں قیوم آباد، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور بغدادی کے علاقے میں چھاپے مار کر انہیں گرفتار کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق پہلے کالعدم جہادی تنظیموں حرکت المجاہدین اور جیش محمد سے تھا اور وہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج کے خلاف طالبان کی کارروائیوں میں بھی شامل رہے ہیں۔

’ ان لوگوں نے لال مسجد آپریشن کے بعد اپنی تنظیموں کے رہنماؤں سے اختلاف کے بعد یہ تنظیم بنائی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کی تنظیمیں اپنے اغراض و مقاصد پورے نہیں کر پا رہی ہیں۔‘

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں آصف اقبال عرف کے ایریا والا سعید، یاسر آفاق عرف ناصر عرف سعد، محمد جان عرف مصطفی، عبدالواحد عرف زبیر، زین العابدین عرف زین، محمد آصف، اعانت اللہ خان عرف توصیف، محمد ارشد عرف اسد، محمد ذیشان عرف شانی عرف مستان بلوچ اور وسیم احمد عرف وسیم شامل ہیں۔

فلاحی اداروں کے افراد کا اغوا
 ملزمان نے کراچی میں موجود چند اہم فلاحی اداروں کے لوگوں کو ہلاک اور اغواء کرنے کا بھی منصوبہ بنارکھا تھا جن پر ان کو شک تھا کہ وہ یہودی تنظیم فری میسن کی ذیلی شاخیں ہیں اور کراچی میں خفیہ طور پر یہودیت، عیسائیت ، قادیانیت اور شیعہ مسلک کے نظریات کو پروان چڑھا رہی ہیں
 
آئی جی سندھ پولیس

سندھ پولیس کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم کے دو اہم ارکان حسان عامر عرف علی اور وجاہت عرف سمیع مفرور ہیں جن میں سے حسان تنظیم کو فنڈز فراہم کرتا تھا۔ ’حسان عامر پہلے برطانیہ میں کاروبار کرتا تھا اور بعد میں اس نے کراچی آ کر سٹاک ایکسچنج میں کاروبار شروع کردیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ملزمان کا تعلق مختلف لسانی گروہوں اور کراچی، اندرون سندھ اور صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے ہے۔ آئی جی سندھ پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان کی نشاندہی پر کورنگی انڈسٹریل ایریا سے ایک لیبارٹری بھی ملی ہے جہاں سے بم بنانے کے آلات اور بھاری مقدار میں بارود اور کیمیکل کے علاوہ جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیبارٹری کے انچارج وجاہت عرف سمیع اور حسان عامر تھے جو بم بنانے کے ماہر ہیں اور وہاں اپنے ساتھیوں کو بم بنانے کی تربیت دیتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اس لیبارٹری میں موجود کمپیوٹر سے جدید طریقے سے ریموٹ کنٹرول بم، ٹائم بم اور بم بنانے کے دوسرے طریقوں کے علاوہ کیمیکل کے ذریعے زہر تیار کرنے کے بارے میں معلومات ملی ہیں اور اردو اور انگریزی میں جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات کے ناموں کی فہرست بھی برآمد ہوئی ہے جنہیں انہوں نے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاہم انہوں نے صحافیوں کے اصرار کے باوجود ان شخصیات کے نام بتانے سے انکار کیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس تنظیم کا بنیادی ہدف کراچی تھا۔

گروہ ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے: پولیس

آئی جی پولیس نے کہا کہ تحریک اسلامی لشکر محمدی نامی اس شدت پسند تنظیم کے وانا میں طالبان کمانڈر طاہر اور افغانستان میں ملا داداللہ سے رابطے تھے۔ ’انہوں نے پچھلے سال داداللہ کی ہدایت پر جاپان پلازہ (کراچی) میں ایک دوکان میں ڈکیتی کی واردات کی تھی جس میں تقریباً ایک سو پچاس واکی ٹاکی سیٹ اور دوسرا سامان لوٹ لیا تھا جو کہ بعد میں سہراب گوٹھ میں موجود طالبان لیڈر طاہر کے ذریعے کمانڈر داداللہ کو افغانستان بھجوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ گروہ کراچی میں ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے جن کے ذریعے یہ تنظیم کے لیے فنڈ جمع کرتے تھے اور اس سلسلے میں شہر میں مختلف مقامات پر ان لوگوں نے مکانات اور گودام کرائے پر حاصل کیے ہوئے تھے جن میں اغواء ہونے والے افراد کو رکھا جاتا تھا۔

اظہر فاروقی کا کہنا تھا کہ ان ملزمان نے کراچی میں موجود چند اہم فلاحی اداروں کے لوگوں کو ہلاک اور اغواء کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا تھا جن پر ان کو شک تھا کہ وہ یہودی تنظیم فری میسن کی ذیلی شاخیں ہیں اور کراچی میں خفیہ طور پر یہودیت، عیسائیت، قادیانیت اور شیعہ مسلک کے نظریات کو پروان چڑھا رہی ہیں۔

ان کے مطابق ’ملزمان نے مختلف ذرائع سے روٹری کلب، لائنز کلب، تھیوسوفیکل سوسائٹی کے ممبران کی لسٹ اور دیگر معلومات حاصل کررکھی تھیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان تنظیموں سے وابستہ تین اہم شخصیات کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا جن میں نیشنل بینک کے نائب صدر لیاقت حسین، دارہ فیروز مرزا اور ڈاکٹر حمید اللہ شامل ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری سے کراچی اور صوبہ سندھ بہت بڑے سانحے سے بچ گیا ہے۔

 
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در شنبه بیست و هفتم بهمن 1386 و ساعت 15:13
 
   
 

 

 

ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در شنبه بیست و هفتم بهمن 1386 و ساعت 15:3
تاييد حكم اعدام مهرنهاد يعني مرگ مبارزه مدني  


با تاييد حكم اعدام يعقوب مهرنهاد در واقع تمام كساني كه با مبارزه مسلحانه عليه نظام و قتل و خونريزي مخالف بودند حكم اعدام دريافت نمودند و بايد گفت اين حكم ماجراجويانه مرثيه ايي بود بر سخنان فعالين مدني .

بارها و بارها شنيده بوديم در بلوچستان هركس را كه مي گيرند ميگويند يا جلوي دوربين اعتراف كن عضو جندالله هستي و ازاد شو و يا زير شكنجه ها بمير اما گويا بدليل نام آشنا بودن يعقوب مهرنهاد اعترافگيران تغيير رويه داده اند و احتما لا گفته اند يا اعتراف كن يا به زور اين قضايا را به تو مي چسبانيم متاسفانه نيروهاي اطلاعاتي و امنيتي استان با توجه به اختيارات زيادي كه دارند براي همه از كسبه و مولوي و دانشجو گرفته تا مسافر و افراد عادي مي توانند پرونده سازي كنند و متاسفانه اين اتهامات در بالا مورد قبول واقع ميگردد اين روند باعث ايجاد موجي از احساس ناامني در ميان ملت بلوچ گشته بطوريكه در جاده ها مي ترسند همچون شهيد احمد هاشمزهي و عظيم براهويي بقتل رسند و يا اگر با يك سي دي گرفته شوند ويا حتي يك سخن در دفاع از بلوچ بزنند به جنبش مقاومت مردمي نسبت داده شوند

فقط در يك كلام مي شود گفت اوضاع بلوچستان با كشتار مردم عادي در جاده ها اعدام هاي دسته جمعي و مخفيانه دستگيري هاي گسترده و... بسيار وحشتناك است و تا زماني كه از نزديك كسي شاهد ماجرا نباشد برايش ملموس و قابل درك نيست

Labels:

http://yekensan33.blogspot.com/


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه بیست و پنجم بهمن 1386 و ساعت 15:33
تنظيم القاعدة يؤكد مقتل أبو الليث الليبي في باكستان  
تنظيم القاعدة يؤكد مقتل أبو الليث الليبي في باكستان نسخه PDF الطباعة البریدالإلکترونی
13 بهمن 1386 ساعت 06:58

المختصر/  CNN/  أعلن مصدر غربي مطلع أن القيادي المعروف بتنظيم القاعدة، أبو الليث الليبي، الذي يعتبر أحد أبرز قادة التنظيم بعد زعيمه أسامه بن لادن، وذراعه الأيمن أيمن الظواهري، قد لقي مصرعه في غارة جوية نفذتها وكالة الاستخبارات المركزية الأمريكية باستخدام صاروخ موجه، وفق ما أكده ثلاثة مسؤولين أمريكيين لـCNN الخميس.
ويعد أبو الليث الليبي، البالغ من العمر 41 عاماً، والذي أخذ يبرز كأحد قادة تنظيم القاعدة في السنوات الأخيرة، واحداً من أبرز المطلوبين في لائحة الجيش الأمريكي.
ويعتقد أن الليبي كان متورطاً في محاولة التفجير في قاعدة باغرام الجوية في فبراير/شباط من العام 2007، أثناء زيارة نائب الرئيس الأمريكي، ديك تشيني للقاعدة.
ولم تحدد المصادر المنطقة التي قتل فيها الليبي، غير أنها قد تكون على مقربة من المنطقة الحدودية بين باكستان وأفغانستان...

وفي وقت لاحق، تحدث مصدر غربي آخر، مشيراً إلى أن مقتل الليبي وقع في باكستان، دون أن يشرح ما إذا كانت العملية التي أودت بحياته قد تمت بجهود باكستانية أم أنها استدعت تدخلاً أمريكياً.
وفيما رفض المصدر الإفصاح عن المزيد من المعلومات حول ظروف مقتل الليبي، ذكرت مراسلة CNN في واشنطن أنها كانت قد تلقت قبل أيام إشارات تفيد احتمال أن يكون أحد قادة القاعدة قد قتل، دون أن تدري ما إذا كان ذلك على صلة بهذه التطورات.

القاعدة تؤكد مقتل الليبي

وأكد تنظيم القاعدة مقتل الليبي في بيان نشرته مواقع متشددة على الإنترنت، ذكرت فيه أنه قتل في باكستان مع عدد من رفاقه.
وجاء في البيان، الذي لم يتسن لـCNN التأكد من صحته:
".. الحمد لله الذي اصطفى من أمة الإسلام نفراً شرَّفهم بالجهاد في سبيله ثم رفعهم وجمع قلوب الناس إليهم وأجرى على أيديهم الخير وأيدهم بتأييده.. ومن هؤلاء.. الشيخ / أبو الليث القاسمي الليبي والذي نزف إلى أمة الإسلام نبأ استشهاده مع ثلة من إخوانه على ثرى باكستان المسلمة، طهرها الله من ربقة المرتد وزمرته."
وأضاف البيان قائلاً: "ونحن إذ نزف للأمة نبأ استشهاد الشيخ فإنا نفرح بما تمناه الشيخ وناله من شهادة في سبيل الله  وإنا وإن حزنا على فقده إلا أن إرثاً تركه الشيخ لن يزيد إلا وهجاً ولهباً يحرق أعداء الملة والدين، فلكم درّب إخوانه الذين التحقوا بمسيرة الجهاد."
غير أن البيان لم يشر إلى ظروف مقتل الليبي، كما لم يوضح ما إذا تم ذلك على يدي القوات الأمريكية أم الباكستانية.

وحدة مكافحة الإرهاب

وأشار قائد عسكري مطلع في وحدة القوات المشتركة 82، المعنية بمكافحة "الإرهاب" والبحث عن الليبي في أفغانستان أنه لا يتملك أي معلومات حول القضية.
غير أنه لفت إلى أنه لا يسعه معرفة حقيقة العمليات التي تجري في باكستان "ما لم يعلمه الجانب الباكستاني بذلك."
يذكر أن الليبي يتحدر من ليبيا وقد برز في الآونة الأخيرة على صعيد الدور الدولي الذي تم منحه إياه، وخاصة في أفغانستان.
وكان الظواهري قد ظهر في تسجيل مرئي في نوفمبر/تشرين الثاني الماضي، أعلن فيه انضمام جماعة إسلامية ليبية إلى شبكة تنظيم القاعدة معلنا الحرب على أنظمة الحكم في دول المغرب العربي.
ونقلت أسوشيتد برس عن الظواهري قوله في تسجيل صوتي تمّ بثه على مواقع معروفة ببثها مثل هذه الرسائل إنّ "قادة الجماعة الإسلامية المقاتلة في ليبيا أعلنوا انضمامهم إلى القاعدة"
وفي نفس الشريط الصوتي، قال متحدث آخر قدّم نفسه على أنه "أبو الليث الليبي" وأنه "زعيم" الجماعة الليبية "إننا نعلن انضمامنا إلى شبكة القاعدة حتى نكون جنودا مخلصين " لأسامة بن لادن.
ولم يكن في وسع الوكالة ولا CNN التأكد من صدقية ما ورد في الشريط الذي تضمن صورا من الأرشيف تظهر مسلحين، مع الدعوة لاستهداف الغربيين في شمال أفريقيا

التعليقات (1)Add Comment
............
أرسلت بواسطة الضيف, February 12, 2008
رحمه الله وتقبله شهيداً عنده

وحسبنا الله على من أعان على قتل مسلم لا سيما مجاهداً كان

وحسبنا الله على من همز ولمز وطعن في المجاهدين وشبكاتهم
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه بیست و پنجم بهمن 1386 و ساعت 15:25
سنی آنلاین: 
الإساءة لأم المؤمنين عائشة الصديقة في مجلة إيرانية نسخه PDF الطباعة البریدالإلکترونی

المجلة التي أساءت لأم المؤمنينفي خطوة دنيئة قامت إحدی المجلات الإيرانية بإجراء حوار مع المخرج السينمائي الشهير في ايران "ابراهيم حاتمي کيا" حول الحرب الإيرانية العراقية وإنه أساء في هذا الحوار لأم المؤمنين عائشة الصديقة رضي الله عنها.
يروي المخرج السينمائي ذکرياته عن حضوره في الخطوط الأمامية للجبهة لتصوير المعارک الدائرة بين الإيرانيين والعراقيين، ويصف دعم الجيش العراقي للقوات المعارضة الإيرانية (مجاهدي الخلق) ويقول: «بدأنا بتصوير المعرکة من التلال المشرفة، وکانت مدرعات القوات المعارضة تنسحب من المعرکة متوجهة إلی العراق بدعم شديد من الجيش العراقي حتی يسهل انسحابهم. قد أعجبني تنظيم القوات وترتيب الصفوف وتنسيقها، لأنهم جعلوا النساء، عائشات العصر، في الخطوط الأمامية، وکان الرجال في الخطوط الخلفية للجبهة».
يصف هذا المسيء نساء القوات المعارضة بأم المؤمنين التي أنزل الله براءتها في القرآن، ومن لم يؤمن ببراءة عائشة الصديقة رضي الله عنها من الإفک، فکأنه أنکر القرآن؛ ومن أنکر القرآن فلا شک في کفره...

 
أحد علماء أهل السنة في ايران يتعرض لتعذيبات وحشية نسخه PDF الطباعة البریدالإلکترونی

بعد 12 يوماً من اختطاف الشيخ ايوب الغنجي (أحد علماء أهل السنة الأکراد الناشطين)، عثر عليه صباح يوم الجمعة أمام أحد المساجد بمدينة سنندج (عاصمة اقليم کردستان – ايران) وهو ملقی علی رصيف الشارع.
إن الشيخ ايوب الغنجي قد تعرض لتعذيبات وحشية بحيث فقد ذاکرته ولايعرف زوجته وولده، وقد تغيّرت هيئته وشكله إثر التعذيبات اللاإنسانية، لدرجة أن أهله وأقاربه لم يعرفوه.
لايعلم بعدُ من هم المتورطون في هذه الجريمة البشعة حيث ألقوه بعد تعذيبات همجية علی رصيف الشارع حينما شعروا أن الشباب في مدينة سنندج کادوا أن ينفجروا من شدة الغضب وفارت الدماء في عروقهم.
يعتقد أکثر الشعب السني في إيران أن القائمين بهذه الجريمة النکراء من إحدی الدوائر الحکومية التي لها القدرة علی اقتراف مثل هذه الجرائم التي تقشعر لها الأبدان...

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه بیست و پنجم بهمن 1386 و ساعت 15:9
تحرکات جدید شیطان پرستان در تهران ( شیعه نیوز)  

«تنها شیطان خدای ماست و غیر او حامی ما نیست»، از جمله شعارهایی است که در برخی از دیوارهای این منطقه به چشم می خورد.


طی سال‌های اخیر گروه شیطان پرستان با راه اندازی سایت های اینترنتی و وبلاگ های متعدد درصدد ترویج اندیشه های خود برآمده است.

به گزارش شیعه نیوز به نقل از جهان، از چندی پیش بر روی دیوارهای نقاط مختلف یکی از مناطق جنوبی تهران شعارهایی در ترویج شیطان پرستی نوشته می‌شود و به نظر می‌رسد تمرکز بیشتری بر این مناطق شده است.

«تنها شیطان خدای ماست و غیر او حامی ما نیست»، از جمله شعارهایی است که در برخی از دیوارهای این منطقه به چشم می خورد.

این گزارش حاکی است بیشتر فعالیت این گونه گروه‌ها در محله‌های بسیار مرفه نشین و یا فقیر نشین صورت می‌گیرد.

در دیوار نویسی‌ها و تبلیغات آنان و در کنار این شعارها اشکالی با ادغام ستاره، دایره و مثلث نیز ترسیم شده است.


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه بیست و پنجم بهمن 1386 و ساعت 15:3
’انتخابات میں حملے نہ کرنے کا اعلان‘  
’انتخابات میں حملے نہ کرنے کا اعلان‘
 

 
 
طالبان فائر بندی پر عمل کر رہے ہیں
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے ملک میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں کسی قسم کے حملے اور مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ تحریک کی طرف سے وزیرستان سے لیکر سوات تک جس جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا وہ بدستور برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائربندی کے بعد سے ان کی طرف سے سیکیورٹی فورسز اور حکومتی اہلکاروں کے خلاف ہرقسم کے حملے بند کردیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل تحریک کے سربراہ بیت اللہ محسود کی سربراہی میں طالبان شوری کا ایک اہم اجلاس ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ان کی طرف سے کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه بیست و پنجم بهمن 1386 و ساعت 14:52
ایران در ارزیابی گزارشگران بدون مرز از سال 2007  
ایران در ارزیابی گزارشگران بدون مرز از سال 2007
 
.
سازمان گزارشگران بدون مرز در گزارش سالیانه خود در مورد وضعیت آزادی رسانه ها در جهان بخشی را به ایران اختصاص داده و در آن اعلام کرده که ایران در سال گذشته میلادی نیز همچون سالهای پیشتر بزرگترین زندان روزنامه نگاران در خاورمیانه بوده است.

فعالیت در رادیو فردا که با بودجه آمریکا اداره می شود به تبلیغ علیه نظام جمهوری اسلامی متهم شد و مهرنوش سلوکی که تابعیت فرانسوی دارد به این دلیل بازداشت شد که مجوزی که از وزارت ارشاد دریافت کرده بود برای ساخت فیلم مستند در رویدادهای پس از پایان جنگ ایران و عراق بود اما او به ساخت فیلم درباره قربانیان سرکوبهای سیاسی دهه شصت خورشیدی پرداخت.

 


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه بیست و پنجم بهمن 1386 و ساعت 14:48
الملا عمر يدعو الدول الغربية للنأي عن واشنطن  
الملا عمر يدعو الدول الغربية للنأي عن واشنطن
اختفاء سفير باكستان بأفغانستان عقب اعتقال داد الله
منصور داد الله خلف شقيقه في القيادة العام الماضي (الجزيرة-أرشيف)

اختفى سفير باكستان لدى أفغانستان طارق عزيز الدين وهو في طريقه إلى كابل بمنطقة خيبر القبلية المحاذية للحدود الأفغانية شمال غرب البلاد وفق ما ذكره التلفزيون الباكستاني الرسمي.
 
وأعربت متحدث باسم وزارة الخارجية الباكستانية عن خشيته من أن يكون السفير قد اختطف.
 
ويأتي هذا الإعلان بعد ساعات من تأكيد مصادر عسكرية باكستانية اعتقال المسؤول العسكري في حركة طالبان الأفغانية منصور داد الله وخمسة من معاونيه أثناء محاولتهم عبور الحدود من أفغانستان إلى باكستان قرب حدود إقليم بلوشستان الباكستاني.
 
وقال المتحدث باسم الجيش الباكستاني اللواء أطهر عباس إنّ داد الله ومرافقيه أطلقوا النار على حاجز للجيش بعد أن أمروا بالتوقف فردّ الجنود على نيرانهم بالمثل، مشيرا إلى أن داد الله أصيب، واصفا حالته بالخطيرة.
 
ونقل المراسل عن مصادر عسكرية إن معركة قوية نشبت في إقليم بلوشستان القريب من الحدود الأفغانية في الساعة الخامسة بتوقيت غرينتش فجر اليوم بين قوات الجيش وخمسة من مقاتلي طالبان, مما أدى إلى اعتقال الخمسة ومن بينهم داد الله الذي وصفت جراحه بالخطيرة جدا.
 
وأضاف المراسل أن بعض المصادر ذكرت أن المسؤول العسكري لقي مصرعه عقب إصابته لكن هذه المعلومات غير مؤكدة حتى الآن.
 
استخبارات
الجيش الباكستاني ينفذ علميات ضد عناصر طالبان والقاعدة في منطقة القبائل (الفرنسية-أرشيف)
بدورها نقلت وكالة أسوشيتد برس عن مسؤول عسكري قوله أن داد الله اعتقل حيا مع أربعة آخرين خلال الاشتباكات. لكنه لقي حتفه خلال نقله جوا إلى مستشفى بعد إصابته بجروح.
 
وأفادت المصادر بأن داد الله أبدى مقاومة خلال المواجهات التي أعقبت معلومات عن أجهزة استخبارات بشأن وجوده بالمنطقة.
 
وخلف منصور شقيقه الأكبر الملا داد الله أحد أهم القادة العسكريين لحركة طالبان بعد مقتله في هجوم مشترك لقوات حلف الأطلسي (الناتو) والجيش الأفغاني في مايو/أيار العام الماضي.
 
وكان المتحدث باسم طالبان ذبيح الله مجاهد أعلن في ديسمبر/كانون الأول الماضي أن القائد الأعلى للحركة الملا محمد عمر أقال منصور داد الله بسبب "عصيانه" الأوامر. غير أن داد الله نفى لمراسل الجزيرة تلك الأنباء.
 
ونفت حكومة إسلام آباد السبت الماضي مزاعم لمسؤول بالإدارة الأميركية قال فيها إن زعيم طالبان الملا محمد عمر يختبئ في كويتا عاصمة بلوشستان وإن زعيم تنظيم القاعدة أسامة بن لادن مختبئ في المناطق القبلية الشمالية الغربية.
 
غيتس والملا عمر
صورة أرشيفية للملا عمر (رويترز-أرشيف)
ويأتي اعتقال أو مقتل داد الله غداة خطاب لوزير الدفاع الأميركي روبرت غيتس قال فيه إن وجود عناصر طالبان الأفغانية ومقاتلي القاعدة في بلوشستان أو في المناطق القبلية في شمال غرب باكستان الحدودية، يمثل تهديدا مباشرا لسلطات إسلام آباد.
 
كما دعا غيتس الدول الأوروبية إلى مشاركة أكبر لمحاربة طالبان خصوصا ضمن القوات الدولية المنتشرة في أفغانستان.
 
وردا على ذلك دعا زعيم حركة طالبان الملا محمد عمر على لسان متحدث باسمه الدول الغربية إلى أن تنأى بنفسها عن إستراتيجية واشنطن العسكرية في أفغانستان.
 
وقال الملا عمر في بيان تلاه المتحدث باسمه ذبيح الله مجاهد إن "الأميركيين هزموا في أفغانستان ويحاولون لشدة اليأس إقحام دول أخرى".
 
وأوضح أن طالبان تحارب من أجل تحرير أفغانستان ولا تشكل تهديدا للعالم. داعيا دول العالم إلى إرغام حكومتها على سحب قواتها من أفغانستان ووقف الدعم للولايات المتحدة.
المصدر: الجزيرة + وكالات
طباعة الصفحة إرسال المقال
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در سه شنبه بیست و سوم بهمن 1386 و ساعت 15:13
امام جمعه مسجد قبا شهرك بهاران سنندج ديروز در خطبه هاي نماز ضمن اعلام پيدا شدن گنجي وضعيت جسمي و روح 
ويژه/ ماجراي پيداشدن امام‌جماعت يك مسجد در كردستان
با انتشار خبر پيدا شدن امام جماعت مسجد قبا شهرك بهاران سنندج مركز استان كردستان، برخي به قصد ايجاد اغتشاش بعد از اقامه نماز جمعه در اين مسجد گردهم آمده بودند كه اعضاي هيات امناي اين مسجد از بروز اين امر جلوگيري كردند.
به گزارش خبرنگار «جهان»، ‏ديده نشدن ماموستا ايوب گنجي امام جماعت اهل سنت مسجد قبا از هشتم بهمن ماه جاري در انظار عمومي، موجب شد شايعاتي درباره دستگيري و كشته شدن وي در استان كردستان پخش شود كه رسانه هاي بيگانه نيز در اين مدت به اين شايعات دامن مي زدند‏.‏


امام جمعه مسجد قبا شهرك بهاران سنندج ديروز در خطبه هاي نماز ضمن اعلام پيدا شدن گنجي وضعيت جسمي و روحي وي را خوب توصيف كرد‏.


ماموستا برهان عالي در خطبه هاي نماز جمعه ضمن تشكر از مسئولان استان كردستان براي پيگيري وضعيت اين روحاني با استناد به معاينات پزشكي انجام شده گفت‏:‏ ايوب گنجي مشكل جسمي ندارد، ولي مقداري خسته است‏.


سايت هاي اينترنتي وابسته به گروهك هاي ضد انقلاب ناپديد شدن اين روحاني را به جمهوري اسلامي ايران نسبت داده و مدعي بودند كه اين روحاني توسط نيروهاي امنيتي ربوده شده است‏.

ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و یکم بهمن 1386 و ساعت 15:21
خبري خوش براي ملت بلوچ  


در ميان اخبار بسيار تكاندهنده از بلوچستان كه خود نشان از شكست سياست مخفي سازي كشتار ها دارد خبر اميد بخش زير جرقه هاي اميد را در دل هاي بسياري از مردم رنج كشيده بلوچ روشن نمود اميد است واقعيات بلوچستان آنگونه كه هست در اين شبكه ماهواره ايي انعكاس يابد

جـــــــــــــــار!

عزیزین برات و گوهاران!

"بلوچی تی وی کمیتی" گون چاپ و نازینک ای وشهالیا بلوچ کوما دنت که؛ رند چه بازین جهد و جهد و بی وابیان هنون اولیگین پروگرام په شنگ ا تیارانت. " بلوچی تی وی کمیتی " باسکانی امیت شه ای تی وی ره دوردیگا ایش انت که مئی بلوچ کوم و زانت کار بزاننت که هچ کاری نه بیگی نهنت. اگن ما همت بکن این و په وتی توان و تاکتا باورمند ببین هرکاری کرت کنین! ما ای تی ویا گون کمترین مالی امکانا ره دورداتگ و مئی زانتکاری گون تی وی کارو باران هچ انت؛ بلی ما امیت کنین که ای اولیگین کدم مئی زانتکارین برات و گوهاران تشویق بکنت که ایان په شه گامی بدل بکن انت!

مئی اولیگین پروگرام جمعه ای روچا فبروری 22 تاریخا ساهت 17.00 په دزاپ(زاهدان) وقتا برابر گون 18.30 په شال(کویته) وقتا شنگ و تالان بیت

.

بلوچی تی وی ای کانالانی سرا شنگ بیت:

watch Baloch TV online
www.gunaz.tv اين سايت در ايران فيلتر است

1.GunAzTv
Satellite: HELLAS SAT 2
FREQ: 11512
HORIZONTAL 39* (EAST)

2.GunAzTv
Satellite: EUROBIRD 25.5* (EAST)
FREQ: 11585
VERTICAL

3.GunAzTv
Satellite: telstar 12
15* (WEST)
FREQ: 12614

February 2008

بلوچی تی وی کمیتی

Balochitv@gmail.com


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و یکم بهمن 1386 و ساعت 15:12
’اسامہ، ملا عمر پاکستان میں ہیں‘ 
’اسامہ، ملا عمر پاکستان میں ہیں‘
 
ملا عمر
اسلام آباد نے تردید کی ہے کہ اسامہ بن لادن یا ملاء عمر پاکستان میں رہتے ہیں
ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ طالبان کے رہنما ملاء عمر اوراسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کے کمانڈر پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔

امریکی اہلکار نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رہنما، ملاء عمر کے ساتھ کوئٹہ میں چھپے ہوئے ہیں جہاں سے انہوں نے افغانستان میں مزاحمتی کارروائیاں کرائی ہیں۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے مغربی قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد نے بار بار تردید کی ہے کہ ملا عمر یا اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں۔

امریکی اہکار نے جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور القاعدہ تنظیم کے رہنما پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ طالبان کی مجلسِ شوریٰ کے رہنما جن کی قیادت ملا عمر کے پاس ہے، کوئٹہ میں رہتے ہیں۔‘

امریکی اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں ملا عمر اور اسامہ بن لادن کی پاکستان میں مبینہ رہائش کی اطلاع کہاں سے ملی تاہم انہوں نے کہا کہ القاعدہ اپنی تمام منصوبہ بندی قبائلی علاقوں سے کر رہی ہے جبکہ ملا عمر طالبان کو جنگی حکمتِ عملی سے متعلق ہدایات کوئٹہ سے دیتے ہیں۔‘

گزشتہ ہفتے طالبان کے ترجمان محمد حنیف نے بھی ملا عمر کے بارے میں اسی طرح کے دعوے کیے تھے لیکن پاکستان نے ان دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔

محمد حنیف نے کہا تھا کہ ملا عمر کی حفاظت پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کر رہی ہے۔

گزشتہ سال افعان صدر حامد کرزئی نے بھی ایسے ہی الزامات لگائے تھے۔

 

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و یکم بهمن 1386 و ساعت 15:0
’دھماکہ خود کش نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ‘  
’دھماکہ خود کش نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ‘
 

 
 
دھماکے کی جگہ
دھماکے کی جگہ پر چار پانچ فٹ کا گہرا گڑھا پڑا ہے:اے این پی رہنما
صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں سنیچر کو عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی میں ہونے والے دھماکے میں اے این پی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکومت نے اب تک تئیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اے این پی نے دھماکے کو ’ ٹارگٹ کلنگ ’ کا واقعہ قرار دیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما اور چارسدہ سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار سید معصوم شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ اتوار کو متعدد افراد کی نمازِ جنازہ بھی ادا کر دی گئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ’ٹارگٹ کلنگ ’ کا نتیجہ ہے جس کا مقصد ان کے مطابق اے این پی کی اعلٰی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے حکومت کے اس دعوے کی بھی سختی سے تردید کی جس میں حملے کو خودکش قرار دیا گیا ہے۔ سید معصوم شاہ کے مطابق ’حکومت جان چھڑانے کے لیے اسے خودکش حملہ قرار دے رہی ہے۔ دھماکے کے پانچ منٹ بعد حکومت نے بغیر کسی تحقیق کے کہنا شروع کر دیا کہ یہ خودکش حملہ تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کی جگہ پر چار پانچ فٹ کا گہرا گڑھا پڑ گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بم حملہ تھا اور جس کا نشانہ اے این پی کی صوبائی کی قیادت تھی۔ ایک سوال کے جواب میں اے این پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت تو اس قسم کے حملوں میں اکثر اوقات القاعدہ اور طالبان کو ملوث قرار دیتی ہے لیکن یہ ان کا کام نہیں ہوسکتا۔

ان کے بقول ’ہمارا طالبان یا القاعدہ سے کیا جھگڑا ہے، نہ تو کبھی ہماری مرکزی سطح پر حکومت رہی ہے اور نہ کبھی ہماری پارٹی کی حکومت میں ان کے خلاف کوئی آپریشن ہوا ہے۔ وہ ہمیں کیونکر نشانہ بنائیں گے؟‘

چارسدہ دھماکے میں اکسٹھ افراد زخمی ہوئے

ادھر صوبائی وزیر اطلاعات سید امتیاز گیلانی کے مطابق دھماکے میں اب تک تئیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ اکسٹھ افراد زخمی ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے مختصر بات چیت کے دوران بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی ٹیم آئی جی انوسٹیگیشن کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر کے بقول دھماکے کے بعد ایک مشتبہ سر ملنے پر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا تاہم اس سلسلے میں حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قائم کی جا سکے گی۔

واضح رہے کہ ضلع چارسدہ میں گزشتہ دس ماہ کے دوران تین دھماکے ہوئے ہیں جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں دو خودکش حملے تھے جس کا نشانہ پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ تھے جبکہ حالیہ حملہ بم دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و یکم بهمن 1386 و ساعت 14:50
قزوینی پرده از چهره کریه خود برداشت 


وضعیت کنونی جهان اسلام می طلبد تا فرد فرد جامعه اسلامی دست در دست هم داده ودر این رویارویی وتقابلی که با دشمنان اسلام صورت گرفته متحد تر ومنسجم تر باشیم .
بدیهی است که انجام هر عملی که خلل در همدلی وتفاهم فیمابین جامعه مسلمان صورت دهد در منظر عقل مندان منفور ومردود می باشد وهرطبع سلیمی انتظار جلوگیری ومنع آن را دارد.
با این وصف همه باید در جهت تحقق وحدت قدم برداشته ودولت وملت همه مسئول خواهند بود، وشانه خالی کردن از این مسئولیت وسهل انگاری در این امر باعث خلل وارد کردن بر پیکره جامعه اسلامی است .
باوجود اهمیت صد چندان این موضوع، متأسفانه چندیست شاهد رجزخوانی فردی به نام « محمد حسینی قزوینی » هستیم که خود را در عنوان روحانی جای داده اما عملاً ادبیات روحانیت را پایمال می کند. وبا تهمت ودشنام به یاران پاک رسول معظم اسلام صلی الله علیه وسلم ومقدسات مذاهب حقه ی اسلامی پرده از چهرۀ واقعی خود برداشته است .
وگویا صدای ساز دشمنان اسلام وآنانکه همه تن در پی نابودی وبرهم اندازی مسلمانان هستند از دهان این شخص که پیاده از مرکب خرد وعقلمندی است بیرون می آید . واکنون که شرع وعقل حکم به وصل می نمایند او قیچی فصل را بدست گرفته وریشخند به صاحبان عقل می زند واین مهم شرعی را بدعت سیئه می خواند.
عدم پی گیری وجلوگیری از اعمال این فرد از سوی ارگانها ونهادهای دولتی وعدم توجه سایر علما وفرهیختگان با وجود شرایط موجود ابتداءً بسیار بحث برانگیز وقابل تأمل بود، اما استمرار او براین گفتار وعدم توجه همگان به او، این را می رساند که مسئولیت پیگیری وجمع آوری چنین افرادی به عهده سازمان بهزیستی کشور می باشد که ما دراین جا از این عزیزان که واقعاً زحمت کش وباصبر وحوصله هستند گلایه مندیم که در این مورد خطر آفرین از آنها کوتاهی صورت گرفته است .
امیدواریم با پیگیری کامل عزیزان این پرونده بسته شده وخاطر همگان را آسوده گردانند.

جمعی از طرفداران وحدت امت اسلامی،فرستاده شده توسط محمد
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در چهارشنبه هفدهم بهمن 1386 و ساعت 18:5
چند خبر گوناگون از اهل سنت 

 

خبر اول اینکه با خبر شدیم مولویِ اسماعیل اسلام دوست که خواهر زاده وهمکار مولانا خدابخش اسلامدوست می باشد، پس از آزادی توسط عوامل اداره اطلاعات شهرستان چابهار دزدیده شده است.جریان به این قرار بوده که ایشان داخل مغازه شان در حال تلاوت کلام الله بوده که 3نفر مامور اطلاعاتی با لباس شخصی بلوچی به مغازه ایشان که موسسه فرهنگی می باشد حضور پیداکرده وبه ایشان میگویند چرا مجددا در این جا فعالیت مینماید؟!

مولوی اسماعیل هم در پاسخ میگوید چرا باید فعالیت نکنم ؟این حق من است و...تازه زمانی که آزاد شدم هیچ گونه تعهدی مبنی بر عدم فعالیت در این موسسه به شما نداده ام.ماموران در این حین با بیهوش نمودن ایشان ،وی را باخود میبرند و لی به احتمال قوی وقتی میبینند حال وی خراب شده است وی را به بیمارستان منتقل کرده وبستری می کنند!!

ودر طی یک هفته که ایشان بستری بوده است به کسی هم اجازه ملاقات با وی را نداده اندو پس یک هفته وی را مرخص میکنند که البته هنوز دست وپای ایشان از شدت سموم لرزش دارد .نکته بسیار جالب اینکه پس از مرخصی ایشان میگیند وی توسط عوامل عبد المالک ربوده شده ! وقتی پرسیدند چرا با عبدالمالک وی را برباید ؟وچرا پس ملاقات نمیدادید؟ماموران ااز پاسخ قانع کننده در مانده شده وگفته اند چون در مرحله اول وی در بازجوییها علیه آنها اعتراف کرده است !!!در حالیکه نامبرده پس از شکنجه های مختلف وپس از یک هفته برای دایی خویش مولانا خدابخش اعتراف کرده وسبب دستگیری وی شده بود . که مولانا خدابخش پس از 40 روز آزاد شد.امیدواریم نشر این خبر باعث ایجاد مشکل دیگری برای ایشان نگردد!!

خبر دیگر اینکه پس از پخش سی دی استقبال وسخنرانی استاد مجاهدمان مولانا حافظ محمد علی (حفظه الله) که با استقبال کم نظیر شهروندان زاهدانی روبرو گشت مسوولین شدیدا خشمگین گشته وبه حضرت شیخ الاسلام اعتراض نموده اندو چند تا دروغ هم سر هم کرده که فلانی اینطور گفته واز وی مردم استقبال کرده اند !

خبر دیگر اینکه عبدالقادر لجه ای طلبه ای که مدتی قبل ناپدید شده بود به علت همراه نداشتن کارت شناسایی حدود دو هفته میهمان نیروی انتظامی بوده است .

دیگر اینکه در زابل وزاهدان وشاید هم دیگر نقاط استان وکشور شایع شده که مولوی خیر شاهی به شهادت رسیده که قویا تکذیب می گردد.

ودست آخر اینکه اسم مدرسه جدید التاسیس لوتک پس از مشوره علمای زاهدان وزابل به مدرسه "امام ابوحنیفه "رح تغییر یافت قبلا قرار بود اسم آن مدرسه" فخر المدارس "باشد.

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در چهارشنبه هفدهم بهمن 1386 و ساعت 18:1
» تلاش القاعده برای دستیابی به سلاح اتمی؛ آمریکا در پی کشتن کارشناس هسته ای القاعده  
شبکه القاعده تلاشهای خود را بر به دست آوردن و تولید سلاحهای کشتار جمعی به ویژه هسته ای متمرکز کرده است .

به نقل از روزنامه لس آنجلس تایمز، هدف اصلی حمله موشکی هفته گذشته آمریکا به منطقه مرزی افغانستان با پاکستان، از بین بردن یکی از فرماندهان عالی رتبه القاعده که از کارشناسان تسلیحات هسته ای محسوب می شود، بوده است.

این روزنامه افزود: این کارشناس هسته ای فردی به نام ابوخباب مصری نام دارد که آمریکا برای دستگیری او جایزه تعیین کرده است.

ابو خباب مصری، که از فرماندهان القاعده محسوب می شود از کارشناسان هسته ای بوده و هم اکنون بر روی تولید سلاحهای کشتار جمعی کار می کند.

ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در دوشنبه پانزدهم بهمن 1386 و ساعت 21:23
ادعاهای پوچ ومضحک آخوند قزوینی  
در نشست وهابیت مانع انسجام اسلامی عنوان شد
وهابیت مسلمانان را کافر می‌داند
تهران - خبرگزاری ایسکانیوز :حجت‌الاسلام‌والمسلمین حسینی قزوینی در نخستین نشست علمی «فکری پویا» گفت: محمد بن عبدالوهاب پایه‌گذار وهابیت نه تنها عقاید شیعه، بلکه بسیاری از عقاید اهل سنت را نادرست و غیراسلامی عنوان کرد که موجب انحراف ده‌ها هزار مسلمان شد.

ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در دوشنبه پانزدهم بهمن 1386 و ساعت 21:21
ويژه/ دكتر سروش رسما نزول قرآن از جانب خدا را انكار كرد 
ويژه/ دكتر سروش رسما نزول قرآن از جانب خدا را انكار كرد
بنا به روایات سنتی، پیامبر تنها وسیله بود؛ او پیامی را که از طریق جبرئیل به او نازل شده بود، منتقل می‌کرد. اما به نظر من، پیامبر نقشی محوری در تولید قرآن داشته است. استعاره‌ی شعر به توضیح این نکته کمک می‌کند. پیامبر درست مانند یک شاعر احساس می‌کند که نیرویی بیرونی او را در اختیار گرفته است. اما در واقع - یا حتی بالاتر از آن: در همان حال - شخص پیامبر همه چیز است: آفریننده و تولیدکننده. بحث درباره‌ی این‌که آیا این الهام از درون است یا از بیرون حقیقتاً این‌جا موضوعیتی ندارد، چون در سطح وحی تفاوت و تمایزی میان درون و برون نیست.

به گزارش خبرنگار «جهان»، عبدالکریم سروش اخيرا در گفت و گویی با میشل هوبینک خبرنگار بخش عربی رادیو جهانی هلند كه در راديو زمانه نيز منتشر شده است، گفت: « بنا به روایات سنتی، پیامبر تنها وسیله بود؛ او پیامی را که از طریق جبرئیل به او نازل شده بود، منتقل می‌کرد. اما، به نظر من، پیامبر نقشی محوری در تولید قرآن داشته است». متن کامل همراه نظرات خوانندگان را در ادامه مطلب مطالعه کنید



ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در دوشنبه پانزدهم بهمن 1386 و ساعت 9:5
 

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در جمعه دوازدهم بهمن 1386 و ساعت 12:28
یادی از 10 بهمن 72 روز قیام مردم زاهدان 
روز ۱۰ بهمن ۱۳۷۲ روزی که مردم موحد زاهدان نشان دادند در مقابل اهانت وبی ادبی رژیم کافر ولایت فقیه از خونشان مایه میگذارند،از روزهای فراموش نشدنی تاریخ بلوچستان واهل سنت ایران به حساب می آید فرا رسیدن این روز میمون وخجسته را به تک تک کسانی در آن روز مقابل گلوله های مزدوران جنایت پیشه ،مردانه ایستادند وبا خشم خویش وسنگ پرانی به ماموران ،جنایت آن روز رژیم که تخریب مسجد شیخ فیض بود را محکوم نمودند  ،تبریک عرض میکنم .برای شهداء آن روز که با اهدای خونشان باعث بیداری جوانان به خواب رفته ما ورسوایی رژیمی که ادعای اسلامی بودن داشته ودارد ،شدند آرزو ی علو درجات وقبولیت میکنم.

الحق والانصاف که مردم زاهدان حق خویش را تا حدودی نسبت به  محکومیت جنایتی که به دستور مستقیم خامنه ای انجام گرفت اداءکردند.لازم است خوانندگان عزیز بدتنند جنایاتی که رژیم شیعی ومتعصب ایران در طول مدت حیاتش انجام داد روی صفیویها را هم سفید کرد!

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در جمعه دوازدهم بهمن 1386 و ساعت 12:11
شهادت شیر لیبی ها 
"ابوالیث اللیبی"،رهبر القاعده در پاكستان كه در لیست پنج نفره مهم‌ترین رهبران جهادی تحت تعقیب ارتش آمریكا قرار داشت شهید شد.
ابولیث اللیبی
"ابوالیث اللیبی"،امیر القاعده در پاكستان كه در لیست پنج نفره مهم‌ترین رهبران جهادی تحت تعقیب ارتش آمریكا قرار داشت كشته شد.
به نقل از پایگاه خبری "الجزیره"،بیانیه منتشر شده ار مركز اطلاع‌رسانی اینترنتی "الفجر" وابسته به القاعده تاكید كرد ابوالیث اللیبی با تنی چند از اعضای القاعده درپاكستان كشته شدند.
در بیانیه القاعده آمده است:«كشت
ه شدن اللیبی سبب برافروخته‌شدن آتش خشم القاعده برای سوزاندن دشمنان دین و ملت ما گشت،ابواللیث از فرماندهان برجسته القاعده بود كه نقشه‌های علیه دشمنان را طرح‌ریزی می‌كرد.»

ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در جمعه دوازدهم بهمن 1386 و ساعت 11:55
ادعای خبرگزاریها؛شهادت شیر خستگی ناپذیر شیخ ابواللیث  
بنا بر گزارش بی بی سی به نقل از سایت الاخلاص ،شیخ ابواللیث لیبی از فرماندهان ارشد عملیاتی سازمان القاعده در یک حمله هوایی همراه ۱۳ مجاهد دیگر که ۷ تن از آنان عرب و۶ نفر دیگر از کشورهای دیگر بودند کشته شده است .چنانچه این خبر صحیح باشد از خداوند میخواهم که از این شیخ مجاهد وسایر همرزمانش قبول فرماید وآنها را در زمره شهداء قرار دهد.

شهادت ایشان را به همه مجاهدین واقعی اسلام بخصوص حضرت شیخ الاسلام اسامه بن لادن (حفظه الله ) تبریک عرض میکنم.

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در جمعه دوازدهم بهمن 1386 و ساعت 11:49
امیر المومنین (حفظه الله)از محسود تقاضا کردند به جای مبارزه با ارتش پاکستان تمام تلاششان را درافغانس 
المختصر/

 مفكرة الإسلام / أماطت صحيفة "آسيا تايمز" اللثام عن انتقادات وجهها أمير حركة المقاومة الإسلامية الأفغانية طالبان الملا محمد عمر للقيادي الإسلامي بيت الله محسود زعيم حركة التحريك الباكستانية وطالبه فيها بتركيز جهود مقاتليه على مواجهة قوات الاحتلال التابعة لمنظمة حلف شمال الأطلسي الناتو بدلاً من مجابهة قوات الجيش الباكستاني.
 ونقلت الصحيفة أن الملا عمر أخبر قادة حركة طالبان الآخرين بضرورة فتح بؤر


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه هفتم بهمن 1386 و ساعت 22:52
چند خبر از مشهد وزابل 
بنا بر اخبار موثق دریافتی یکی از طلاب مدرسه جدید التاسیس لوتک بنام"عبدالقادر لجه ای"بیش از ده روز است که مفقود میباشد.طلبه یاد شده همراه تعداد زیادی از طلاب ومدرسین زابل جهت ملاقات با استاد از بند رها شده خویش به زاهدان  آمده بود که در شهر زاهدان برای کا