تبليغاتX
گوناگون از اخباراهل سنت ایران ومنطقه
’طالبان کے تحت وانا میں امن‘  
’طالبان کے تحت وانا میں امن‘ عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، وانا، جنوبی وزیرستان طالبان دن رات گشت اور مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کرتے ہیں پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے بازار میں طالبان کا دفتر قائم ہے جس کے سامنے انہوں نے ناکہ لگا رکھا ہے، وہاں موجود مسلح طالبان بازار میں داخل ہونے والی ہرگاڑی پر نظر رکھتے ہیں۔ علاقے کے لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے طالبان کے دفتر سے رجوع کرتے ہیں جہاں پر فریقین سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ مسئلے کو قبائلی روایات کے ذریعہ حل کرواناچاہتے ہیں یا شریعت کے تحت۔ یہ ہے آج کا وانا جہاں ایک سال قبل یعنی پندرہ اپریل دوہزار سات کو طالبان اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا۔ معاہدے سے پہلے وانا میں مقامی طالبان سربراہ مولوی نذیر کی سربراہی میں وزیر قبیلے نے سکیورٹی فورسز کی معاونت سے وہاں موجود ازبک جنگجؤوں کیخلاف آپریشن کیا تھا، جس کے بعد حکومت طالبان امن معاہدہ عمل میں آیا۔ میں جب وانا پہنچا تو کافی تگ و دو کے بعد مولوی نذیر سے ملاقات ہوئی۔ مگر انہوں نے ایف سی آر کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات کرنے سے انکار کردیا اور میرے سوالات کے جواب میں الٹا مجھ سے پوچھا: ’آپ اس سے قبل بھی وانا آئے تھے کیا آپ نے کبھی بھی اس طرح کھلم کھلا گھومنے پھرنے کا تصور کیا تھا۔ اب اگر آپ پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈہ جانا چاہیں تو وہاں بڑے آرام سے آ جاسکتے ہیں۔‘ امن و امان آپ اس سے قبل بھی وانا آئے تھے کیا آپ نے کبھی بھی اس طرح کھلم کھلا گھومنے پھرنے کا تصور کیا تھا۔ اب اگر آپ پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈہ جانا چاہیں تو وہاں بڑے آرام سے آ جاسکتے ہیں مولوی نذیر وانا اور آس پاس کے علاقوں میں مکمل طور پر امن ہے۔ ایک قبائلی مشر ملک محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے طالبان نے کنٹرول سنبھالا ہے تب سے یہاں پر قتل، اغواء اور دیگر چھوٹے موٹے جرائم کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے۔ ان کے بقول کئی کئی مہینوں تک بند رہنے والے تمام راستے کھل گئے ہیں جبکہ تاجر اور زمیندار بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم طالبان کے علاوہ مقامی لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ امریکہ امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے سابق ایم این اے مولانا نور محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد علاقے میں سو فیصد امن لوٹ آیا ہے مگر مبینہ امریکی حملوں سے امن کے اس عمل کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔‘ ان کے بقول’نومنتخب مرکزی اور صوبہ سرحد کی حکومتوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو اعلان کر رکھا ہے اس سے قبل وہ امریکہ پر یہ بات واضح کردیں کہ آئندہ ہونے والے معاہدے کے بعد اگرسرحد پار سے میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو پھر خطے میں دیرپا امن لانا ممکن نہیں ہوگا۔‘ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق وانا بازار میں ٹریفک کا کنٹرول طالبان کے پاس ہے اور ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی پر دو ہزار تک جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔ صرف طالبان اور سرکاری اہلکاروں کو اپنے گاڑی کے شیشے سیاہ رکھنے کی اجازت ہے۔ امریکہ کی وجہ سے امن و امان برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے: مولانا نور محمد قتل اور اغواء کی وارداتوں کو روکنا، قیمتوں کا کنٹرول اورافغانستان کو آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کی ذمہ داری بھی طالبان نے لے رکھی ہے۔ اہلکار کے مطابق طالبان کی تقریباً اٹھائیس گاڑیاں دن رات علاقے کا گشت کرتی ہیں اور اس دوران ہر مشکوک شخص سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں طالبان نےایک خود کش بمبار کو گرفتار کر کے اسے اپنے مرکز جسے موسیٰ قلعہ کا نام دیا گیا ہے میں قید کر لیا ہے۔ ایک برس قبل یہ تمام ریاستی ذمہ داریاں پولٹیکل انتظامیہ نے سنبھال رکھی تھیں۔ اب وانا میں فوج سمیت تمام سرکاری اہلکار اپنے اپنے دفاتر اور بیرکوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں نے وانا میں وہ منظر بھی دیکھا کہ کل تک ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن فوجی اور طالبان آج سڑک پر قافلوں کی صورت میں جاتے ہوئے اوور ٹیک کرنے کے لیے بڑے آرام سے ایک دوسرے کی گاڑیوں کے لیے راستہ خالی کردیتے ہیں۔ البتہ فروری اور مارچ میں غیر ملکیوں کے دو مشکوک ٹھکانوں پر مبینہ میزائل حملوں کے نتیجہ میں بیس سے زائد غیر ملکیوں کی ہلاکت کے بعد یہ امن معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ طالبان نے ردعمل کے طور پر پاکستانی فوج پر خودکش حملہ کیا تھا جسکی ذمہ داری انہوں نے بعد میں قبول بھی کرلی۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں حملے امریکہ نے بغیر پائلٹ طیاروں سے کیے تھے جس میں بقول ان کے ہلاک ہونے والوں میں کوئی بھی غیر ملکی شامل نہیں تھا۔ امریکہ کو تنبیہ نومنتخب مرکزی اور صوبہ سرحد کی حکومتوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو اعلان کر رکھا ہے اس سے قبل وہ امریکہ پر یہ بات واضح کردیں کہ آئندہ ہونے والے معاہدے کے بعداگرسرحد پار سے میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو پھر خطے میں دیرپا امن لانا ممکن نہیں ہوگا۔ مولانا نور محمد طالبان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں مگر میں نے وانا میں دو دن کے قیام کے دوران لڑکیوں کو برقعوں میں سکول جاتے ہوئے اور لڑکوں کو یونیفارم میں ملبوس فٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھا۔ دو سال قبل پڑوسی ایجنسی شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے فٹ بال کھلاڑیوں کو پکڑ کر انہیں سزائیں دی تھیں۔افغانستان میں بھی طالبان نے اپنی دور حکومت میں ایک پاکستانی ٹیم کو گرفتار کر لیا تھا اور سر منڈھوانے کے بعد انہیں واپس چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ وانا میں اپنی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے موسیقی بھی سن سکتے ہیں البتہ بازار میں سرعام موسیقی بجانے پر پابندی ہے۔ تین دن قبل طالبان نے پمفلٹ کےذریعے تمام دکانداروں کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ دکانوں سے تصاویر اتار لیں ۔
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در چهارشنبه بیست و هشتم فروردین 1387 و ساعت 16:40
طالبان الباكستانية تعرض الهدنة وبدء الحوار مع الحكومة الجديدة 
مسلح في وزيرستان
مسلح في وزيرستان

مفكرة الإسلام: تقدم القائد البارز في حركة طالبان الباكستانية مولانا فقير محمد بعرض على الحكومة الجديدة في باكستان والتي تشكلها قوى المعارضة الفائزة في الانتخابات البرلمانية الأخيرة، يتضمن وقفًا لإطلاق النار وبداية للحوار بشرط إنهاء أي دعم يتمتع به حاليًا الرئيس برفيز مشرف.
وخلال حديثه أثناء مؤتمر في منطقة ماموند العشائرية قال مولانا فقير محمد: "حركة طالبان الباكستانية لا تستطيع حاليًا أن تأتمن الحكومة الجديدة طالما أن الرئيس مشرف لازال يتمتع بنوع من السلطة".
حتمية إنهاء التبعية الباكستانية للسياسات الأمريكية
وقال: إن الإسلاميين في المنطقة العشائرية المحاذية للحدود مع أفغانستان يريدون علاقات أفضل مع الحكومة الباكستانية، لكن في حالة ميلاد قيادة جديدة توقف أي دعم أو مساندة لمشرف وسياساته المبنية على مراعاة المصالح الأمريكية.
وحذّر مولانا فقير محمد من أن أي اتفاق للسلام يهدف إلى تحقيق الاستقرار وتخفيف أجواء التوتر لن يتحقق ولن يكتب له الاستمرار إذا كانت إسلام آباد ستواصل خدمة السياسات الأمريكية في المنطقة، على حد قوله.
ووفقًا لصحيفة "دون" فقد انتقد القيادي الإسلامي الباكستاني الخطط التي أعلنت عنها الحكومة الأمريكية والمتعلقة بتقديم تدريبات وتجهيزات وتمويل للقوات شبه العسكرية الباكستانية.
وقال مولانا فقير محمد: "هذه إهانة كبرى لواحد من أكبر جيوش العالم وأفضلها تأهيلاً وتدريبًا".
تحذير من أي مساس بالقائد بيت الله محسود
وحذّر كذلك من أن أي عمل عدائي ضد القائد بيت الله محسود زعيم الحركة ستترتب عليه عواقب وخيمة، وقال: "لابد أن تدرك الحكومة جيدًا أن هناك عناصر مخربة في المنطقة العشائرية تتنكر في زي طالبان وتتمحك في الإسلاميين وترتكب تصرفات تافهة من شأنها إعاقة الاستقرار الاجتماعي، لكن بالنسبة لطالبان الباكستانية فهي حريصة على ضبط القانون والنظام".
وأنذر فقير من تداعيات السماح لأية قوات تقودها الولايات المتحدة في المنطقة العشائرية الحدودية، وحذر كذلك اللاجئين الأفغان في المنطقة بعدم الخدمة في الجيش الأفغاني الداعم لقوات الاحتلال الأجنبية أو دعم هذه القوات بأية وسيلة كانت.

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و ششم اسفند 1386 و ساعت 16:53
ضربة صاروخية عنيفة تقتل 16 في جنوب وزيرستان 
ضربة صاروخية عنيفة تقتل 16 في جنوب وزيرستان
الأحد 9 من ربيع الأول1429هـ 16-3-2008م الساعة 02:56 م مكة المكرمة 11:56 ص جرينتش
قوات باكستانية
قوات باكستانية

مفكرة الإسلام: أسفر هجوم صاروخي وقع قبل قليل عن مقُتل 16 شخصًا على الأقل في  في منطقة وزيرستان الباكستانية قرب الحدود مع أفغانستان.
وأوضح التليفزيون الحكومي الباكستاني أن الضربة الصاروخية العنيفة تسببت في تحطيم منزل شخص يشتبه في أنه من قادة الإسلاميين في المنطقة العشائرية الواقعة جنوب وزيرستان.
وبحسب المحطة فإن سبع قذائف أطلقت في هذه الضربة، بدون أن تشير أية مصادر حكومية إلى الجهة التي يعتقد أنها أطلقت تلك القذائف.
جدير بالذكر أن جيش باكستان يحارب الإسلاميين في المنطقة الحدودية القريبة من أفغانستان بدعوى تعاطفهم مع طالبان والقاعدة، وهو الدور الذي ترغب فيه الولايات المتحدة من إسلام آباد في سياق ما يسمى "حرب الإرهاب".

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و ششم اسفند 1386 و ساعت 16:45
انفجار در رستورانی ایتالیایی در اسلام آباد  
در اثر انفجاری در اسلام آباد، پایتخت پاکستان، یک زن ترک کشته و دست کم 10 نفر زخمی شده اند.

مقامات امنیتی می گویند که انفجار در رستورانی ایتالیایی به نام "لونا کیپریز" صورت گرفته که محل رفت و آمد خارجی هاست.

گزارشها همچنین حاکیست که به هنگام وقوع انفجار حدود 12 شهروند خارجی مشغول صرف غذا بودند.

منابع دولتی بریتانیا و آمریکا گفته اند یک دیپلمات آمریکایی و یک دیپلمات بریتانیایی در بین مجروح شدگان هستند.

بین مجروحان افرادی از ژاپن، کانادا و ترکیه نیز دیده می شوند.

پلیس گفته است که 5 نفر از مجروحان آمریکایی هستند.

مامورین امنیتی و امدادگران پزشکی به محل حادثه رفته اند.

بر اساس گزارشها انفجار در حیاط پشت این رستوران رخ داد. همین گزارشها حاکیست که در اثر شدت انفجار شیشه های رستوران شکسته شد و بخشی از دیوار پشتی رستوران فرو ریخت.

به گفته ناظران این انفجار اولین انفجار از سال 2002 تا کنون بوده که ظاهرا شهروندان خارجی در اسلام آباد را هدف قرار داده است.

رستوران "لونا کیپریز" در منطقه ای شلوغ در اسلام آباد واقع است و از معدود رستورانهایی است که مشروبات الکلی سرو می کند.

انفجار دو روز پیش از افتتاح پارلمان پاکستان صورت گرفته است.

پارلمان پاکستان قرار است روز دوشنبه (17 مارس) افتتاح شود و به همین دلیل گزارشها حاکیست که ترتیبات امنیتی در کشور افزایش یافته است.

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در یکشنبه بیست و ششم اسفند 1386 و ساعت 16:39
تصاویری از انفجار اخیر لاهور پاکستان 


صور من تفجيرات لاهور الباكستانية لهذا اليوم







 


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در سه شنبه بیست و یکم اسفند 1386 و ساعت 15:39
انفجار در پاکستان شماری کشته برجای گذاشت  
انتقال زخمی های انفجار در مرکز اداره تحقیقات فدرال در لاهور
شدت انفجار در برابر اداره تحقیقات فدرال باعث ریزش بخشی از دیوار ساختمان شد
وقوع انفجارهایی در دو نقطه از شهر لاهور در پاکستان دست کم بیست کشته و بیش از یکصد زخمی برجای گذاشته است.

به گزارش منابع پلیس پاکستان، در ساعات بامداد روز سه شنبه، 11 مارس (21 اسفند)، انفجاری در برابر ساختمان اداره تحقیقات فدرال، شعبه شهر لاهور، روی داد که گفته می شود به کشته شدن دست کم شانزده نفر که اکثر آنان از کارمندان این سازمان امنیتی بودند منجر شد و بخشی از این ساختمان را نیز ویران کرد.

این بمب در یک اتومبیل کار گذاشته شده بود و تصاویر تلویزیونی از محل حادثه نشان می دهد که شدت انفجار باعث فرو ریختن بخشی از دیوار این ساختمان شد.

ساعاتی بعد، بمب دیگری در یکی از محله های مسکونی شهر لاهور، واقع در حدود ده کیلومتری محل انفجار اول، منفجر شد و به گفته برخی منابع محلی، در اثر آن دست کم چهار نفر از جمله دو کودک جان خود را از دست دادند.

براساس برخی گزارش ها، به نظر می رسد که انفجار دوم ناشی از یک حمله انتحاری بوده باشد.

در این گزارش ها آمده است که دو سرنشین یک اتومبیل بمبی کار گذاشته در آن را در برابر در ورودی یک موسسه تبلیغاتی منفجر کردند.

اداره تحقیقات فدرال پاکستان در مبارزه با تروریسم، فساد اداری، تخلفات عمده تجاری و مالی و قاچاق انسان در سطح ملی فعالیت دارد و دارای ارتباط با نهادهای مشابه در کشورهای مختلف جهان است.

 


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در سه شنبه بیست و یکم اسفند 1386 و ساعت 15:7
توافق بر سر مشارکت در قدرت در پاکستان  

توافق بر سر مشارکت در قدرت در پاکستان




به گزارش آژانس خبری تفتان به نقل از بی بی سی رهبران دو حزبی که در انتخابات عمومی پاکستان بیشترین آراء را به دست آورده بودند موافقت کرده اند که یک دولت ائتلافی تشکیل دهند.
با این ائتلاف، آصف علی زرداری، همسر بی نظیر بوتو که تا هنگام ترور شدنش رئیس حزب مردم پاکستان بود و حزب مسلم لیگ نواز شریف، نخست وزیر سابق این کشور با یکدیگر همکاری خواهند کرد.
این توافق پس از دور نهایی مذاکرات دو طرف حاصل شد.
در انتخابات عمومی پاکستان، حزب مردم پاکستان وحزب مسلم لیگ ( شاخه نواز) طرفداران پرویز مشرف، رئیس جمهور پاکستان را شکست سختی دادند.

ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در دوشنبه بیستم اسفند 1386 و ساعت 15:14
5 قتلى و7 جرحى بثلاث انفجارات هزت الكلية البحرية الباكستانية 
 
5 قتلى و7 جرحى بثلاث انفجارات هزت الكلية البحرية الباكستانية
الثلاثاء26 من صفر1429هـ 4-3-2008م الساعة 12:06 م مكة المكرمة 09:06 ص جرينتش
شرطة باكستانية

مفكرة الإسلام: أعلنت مصادر أمنية باكستانية أن ثلاثة انفجارات قد وقعت داخل الكلية البحرية في مدينة لاهور الواقعة شرق باكستانية، اليوم الثلاثاء.
وذكرت المصادر الأمنية وفقًا لما تنقله وكالة فرانس برس أن الانفجارات الثلاثة قد أسفرت عن سقوط عدد غير معلوم حتى الآن من الضحايا إضافة إلى اندلاع حرائق كبيرة.
 وأخبر رئيس شرطة لاهور مالك محمد إقبال الوكالة: "سبب الانفجارات ليس واضحًا حتى الآن، لكن هناك الكثير من النيران مشتعلة والكثير من الدخان يخرج من بناية الكليّة البحرية".
وقال مالك إقبال: إن الشرطة تتحرى حاليًا ملابسات هذه الانفجارات، ولا يمكن الجزم في الوقت الراهن بما إذا كان سببها قنابل أم لا.
وكانت محطة جيو التليفزيونية الباكستانية الخاصة قد أبلغت عن وقوع أربعة انفجارات تفصل بين وقوعها دقائق معدودة بالقرب من مبنى الكلية البحرية.
وتحدثت المحطة عن مقتل شخصين على الأقل وإصابة عدة أشخاص بجراح تم نقلهم إلى المستشفى من خلال سيارات الإسعاف


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در سه شنبه چهاردهم اسفند 1386 و ساعت 15:35
يک بمب گذار انتحاری در پاکستان با انفجار خود ۴۰ نفر را کشت 
يک بمب گذار استشهادی در پاکستان با انفجار خود ۴۰ نفر را کشت

02/03/2008

انفجار امروز در محل برپائی جرگه، شورای محلی روستای «دره آدم خل» در ايالت سرحدی شمال باختری پاکستان، روی داد. هزاران نفر هنگام انفجار در جرگه حضور داشتند.

سخنگوی وزارت کشور پاکستان می گويد رهبران پنج قبيله، مردم را به جرگه دعوت کرده بودند تا در اين باره تصميم بگيرند که اگر کسی به ستيزه جويان اسلامگرا شامل القاعده، طالبان و يا تندرو های خارجی ديگر، پناه داد مجازات شود.

عالم خان از افراد قبيله می گويد مردجوانی به وسط جمعيت ريش سفيدان آمد و خود را منفجر کرد.

زخمی ها با آمبولانس و اتومبيلهای شخصی به بيمارستان های پيشاور و کوهات منتقل شدند.

يک مسئول بيمارستان می گويد ۴۰ جسد را شمارش کرده که تکه پاره شده بودند و می افزايد بيم آن دارد که شمار تلفات بمراتب بيش از اين باشد.

http://www.voanews.com/persian/2008-03-02-voa10.cfm

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در دوشنبه سیزدهم اسفند 1386 و ساعت 15:16
يک مقام بلندپايه بهداری ارتش پاکستان و هفت نفرديگر در حمله ای فدائی کشته شدند 
26/02/2008

Lt Gen Mushtaq Baig

ژنرال مشتاق بيگ

يک بمب گذارفدائی در حمله ای در راولپندی يک مقام بلندپايه بهداری ارتش پاکستان و دست کم هفت نفرديگر را از پای درآورد.

در اعلاميه دولت پاکستان آمده است ژنرال مشتاق بيگ جراح عمومی ارتش همراه با راننده و محافظ خود و دست کم پنج غيرنظامی در انفجار روز دوشنبه جان خود را از دست دادند.

از زمان پيوستن پاکستان به نبرد آمريکا با تروريسم در سال ۲۰۰۱ ، ژنرال بيگ بلندپايه ترين افسر ارتش پاکستان است که کشته می شود.

در رويدادی ديگر، اصابت بمبی در کنار جاده به يک خودرو ارتشی در استان بلوچستان پاکستان، دست کم سه سرباز را به هلاکت رسانيد. گروهی که خود را ارتش جمهوری بلوچستان می نامد، مسئوليت اين حمله را برعهده گرفت.

در همين حال به دنبال حمله چند مرد مسلح به يک سازمان امدادی بريتانيائی در شمال باختری پاکستان، چهار پاکستانی جان خود را از دست دادند

|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در سه شنبه هفتم اسفند 1386 و ساعت 15:8
باكستان: السلطة والجيش والإسلاميون 
باكستان بين السلطة والجيش والإسلاميون
باكستان.. بين السلطة والجيش والإسلاميون

منسق الملف


محمد الزواوي


مفكرة الإسلام: ماذا يحدث في باكستان؟ هذا هو السؤال الذي نحاول أن نجيب عنه في هذا الملف الصحفي، عن ذلك البلد الذي يشهد توترات واستقطابات من كافة الاتجاهات منذ فترة ليست بالقصيرة؛ حيث تتشابك خيوط السياسة مع الجيش مع الإرهاب مع الضغوط الخارجية مع الإسلاميين في الداخل والمعارضة البرلمانية في ذلك البلد المسلم الوحيد الذي يتملك السلاح النووي، والذي له أهمية استراتيجية كبيرة للولايات المتحدة في حربها على ما تسميه "الإرهاب"، وكذلك كدولة موازنة للقوة الهندية في شرق آسيا، كما أن باكستان تشهد تصاعدًا كبيرًا للنشاط الإسلامي الذي يدق ناقوس الخطر الأمريكي بأن السلاح النووي ربما يكون "إسلامي" في يوم من الإيام، ليس ببعيد عن ناظريها.


وفي هذا الملف نحاول أن نرصد محددات المعادلة الباكستانية، وضع الجيش الباكستاني ودور الإسلاميين في البلاد وكذلك الضغوط الخارجية على مشرف من أجل قمع الإسلاميين وغلق المدارس الإسلامية ومحاربة نفوذ حركة طالبان في المناطق العشائرية المتاخمة للحدود الأفغانية، في تلك المنطقة التي لا تعترف بالحدود الجغرافية ولا السلطة السياسية للدولة؛ سواء كانت باكستان أو أفغانستان، وتلك المنطقة تمثل أيضًا صداعًا في رأس الولايات المتحدة، حيث تعتبرها منطقة تصدير المجاهدين وإيوائهم ـ بما فيهم عناصر القاعدة وقياديها ـ إلى جميع أنحاء العالم.


ادامه مطلب
|+|
نوشته شده توسط بلوچستانی در پنجشنبه هفدهم آبان 1386 و ساعت 10:48